Wed. May 18th, 2022

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داران سے رپورٹ طلب کرلی، انہوں نے کہا کہ بظاہر غیر انسانی رویے کے ذمے دار چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کیس کی سماعت ہوئی، درخواست اڈیالہ جیل کے قیدی کی جانب سے دی گئی، کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جیل وزٹ کے لئے میڈیا کو جانے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے جواب دیا کہ جس صحافی کو جانا ہے وہ وزارت داخلہ کو درخواست دے۔

انہوں نے کہا کہ جیل میں صرف غریب قیدی ہیں، کچھ قیدی ایسے ہیں کہ درخواست بھی نہیں لکھ سکتے۔ جیل کے اندر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کی جا رہی ہے، وفاقی حکومت کا کام ہے کہ تمام معاملات دیکھے۔

دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ بظاہر غیر انسانی رویے کے ذمے دار چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں، کیوں نہ غیر انسانی رویے کی وجہ سے قیدیوں کو معاوضہ دیا جائے؟

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ایک سال قبل قیدیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر حکم دیا تھا، ریاست اپنے شہریوں پر ظلم نہیں کر سکتی اگر ظلم ہو رہا ہے تو کوئی ذمہ دار ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *