Wed. May 18th, 2022

ریاض: سعودی حکام نے حج کے قوانین کی خلاف ورزی، ڈی پورٹ ہونے اور دوبارہ مملکت واپس آنے کے حوالے سے وضاحتیں پیش کی ہیں۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں امیگریشن قوانین کے تحت وہ افراد جو عمرہ، حج یا وزٹ ویزے پر مملکت آتے ہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ مقررہ مدت سے زیادہ مملکت میں قیام نہ کریں۔

ایسے افراد جو اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں انہیں مملکت سے ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے، قانون کے مطابق سعودی شہری اور اقامہ ہولڈر غیر ملکیوں کے لیے بھی حج قوانین کی پابندی کرنا ضروری ہے۔

ایک شخص نے حج خلاف ورزی کے حوالے سے دریافت کیا کہ حج خلاف ورزی پر ڈی پورٹ کیے جانے والے دوبارہ مملکت ورک ویزے پر آسکتے ہیں؟

جواب میں اسے بتایا گیا کہ سعودی امیگریشن قوانین میں تبدیلی کے بعد ایسے غیر ملکی جنہیں حج خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ کسی بھی قانون شکنی کے نتیجے میں ڈی پورٹ کیا جاتا ہے ان پر تاحیات سعودی عرب آنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔

وزارت حج کے قانون کے مطابق سعودی شہری ہو یا اقامہ ہولڈر غیر ملکی، سب حج قانون کی پابندی کرنے کے پابند ہیں، اعلیٰ حج کمیٹی کے قانون کے مطابق ایک حج سے دوسرے حج کے لیے پانچ برس کا وقفہ لازمی ہے۔

حج کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ حج خدمات فراہم کرنے والے ادارے میں رجسٹرڈ ہو کر حج پرمٹ حاصل کیا جائے۔ حج خدمات فراہم کرنے والے ادارے عازمین کو تمام سہولتیں فراہم کرتے ہیں جن میں مشاعر مقدسہ میں قیام و طعام کے علاوہ نقل و حمل کی جملہ سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔

حج پرمٹ کے بغیر کسی کو ایام حج کے دوران مکہ مکرمہ جانے کی اجازت نہیں ہوتی، پرمٹ کے بغیر مکہ مکرمہ جانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

ایسےافراد جو پرمٹ کے بغیر مکہ جاتے ہیں انہیں گرفتار کر کے فنگرپرنٹ فیڈ کرلیے جاتے ہیں جس کے بعد جوازات کے مرکزی کنٹرول روم میں ان افراد کی فائل سیز کردی جاتی ہے۔

پرمٹ کے بغیر مکہ مکرمہ جانے کی کوشش کرنے والے افراد کے فنگر پرنٹ فیڈ کیے جانے کے بعد اقامہ کی تجدید کے وقت یا اس سے قبل انہیں ڈی پورٹ کرنے کے احکامات صادر کر دیے جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *