Sat. May 14th, 2022

کراچی: گزشتہ دس سالوں میں ایک طرف پاکستانی بچوں میں موٹاپے کی شرح دوگنی ہوگئی ہے جبکہ دوسری جانب غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد 45 فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔

اس بات کا انکشاف پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائٹیٹک سوسائٹی (پی این ڈی ایس) سے وابستہ ماہرین غذائیات اور امراض اطفال نے پیر کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پریس کانفرنس سے پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائٹیٹک سوسائٹی کی صدر فائزہ خان، وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر رومینا اقبال، ڈاکٹر سینا عزیز اور اور صائمہ رشید نے خطاب کیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی این ڈی ایس کی صدر فائزہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غذائیت کا مسئلہ سنگین تر ہوتا جارہا ہے، جہاں ایک طرف بہت بڑی آبادی کو غذائی قلت کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب آبادی کے ایک بڑے حصے کو مائیکرو نیوٹری اینٹس یعنی وٹامن اور منرلز کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسی طریقے سے پاکستان میں نہ صرف بچے بلکہ بڑے بھی موٹاپے کا شکار ہو رہے ہیں جو کہ غذائیت کی کمی کا اسی طرح شکار ہیں جس طرح غذائی قلت سے متاثرہ بچے اور بڑے افراد شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام مسائل کو ڈسکس کرنے اور زیر بحث لانے کے لئے پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹک سوسائٹی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد کر رہی ہے جو کہ جمعہ کے روز کراچی کے مقامی ہوٹل میں شروع ہوگی اور اتوار کی شام اختتام پذیر ہوجائے گی۔

کانفرنس کی افتتاحی تقریب کی مہمان خصوصی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو ہونگی جبکہ اتوار کے روز اختتامی سیشن کے مہمان خصوصی گورنر سندھ عمران اسماعیل ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *