Fri. May 13th, 2022

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ طالبان کی مدد کرنے والے ملک کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کا درجہ کم کرنے پر غور کررہا ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ازسرنوجائزہ لینے کا وقت آگیا ہے . افغانستان میں بیس جنگ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد امریکا اپنی ہار کے لیے کسی تیسرے فریق کو ذمہ دار ٹہرانا چاہ رہا ہے اور سلسلہ میں پاکستان کا نام آرہا ہے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اسدمجیدخان کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کی سب سے زیادہ درآمدات امریکا کے ساتھ ہیں اور پاکستان میں ترسیلات زرمیں بھی امریکا تیسرے نمبر پر آتا ہے.

اس صورتحال میں پاکستان کے لیے ممکن ہے کہ وہ سعادت مند برخوار کی طرح ایک بار پھر تمام تر ذمہ داریاں اپنے سر لے کر پابندیوں کے لیے اپنی گردن پیش کردے ؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی کی اقتصادی صورتحال پہلے ہی سخت مشکلات سے دوچار ہے اور وزارت خزانہ میں بار بار تبدیلیوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑرہا تو ایسی صورت میں پاکستان کا سب سے بڑا درآمدکندہ ملک اگر اس پر پابندیاں عائدکرتا ہے تو نہ صرف ملک میں روپے کی قدرمیں مزیدکمی اور ڈالر کی قدرمیں ہونے والے اضافے سے کساد بازاری اور بڑھے گی.

 

ا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *