Fri. Jan 21st, 2022

اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جلد میں امنیاتی خلیات موجود ہوتے ہیں جو عموماً ویکسین کا ہدف ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ روایتی طور پر ویکسین دینے سے کئی گنا بہتر ہے جس میں عموماً بازو میں ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ اس کی تفصیلات پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع کی گئی ہیں۔نارتھ کیرولینا: دو امریکی جامعات نے سوئی لگوانے سے خوفزدہ افراد کےلیے ویکسین سے بھرا ہوا پیوند تیار کیا ہے جو ابتدائی آزمائش میں سوئی والی ویکسین سے بہتر اور مؤثر ثابت ہوا ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا چیپل ہِل نے اسٹیکر نما پیوند تیار کیا ہے جس میں بہت ساری باریک سوئیاں نصب ہیں۔ جب انہیں جلد پر چپکایا جاتا ہے تو سوئیوں میں موجود ویکسین کی خوراک جلد کے اندر سرایت کرجاتی ہیں اور یوں ویکسین دینے کا عمل مکمل ہوجاتا ہاس ایجاد کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ سوئیوں کی تعداد اور خوراک کی مقدار کو کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے جبکہ معمولی مقدار پر بھی وہی امنیاتی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں کیونکہ جلد پرموجود خلیات امنیاتی طور پر بہت سرگرم ہوتے ہیں۔ تھری ڈی پرنٹر سے کئی اقسام کے پیوند بنا کر انہیں، فلو، خسرہ، کووڈ اور ہیپاٹائٹس کی ویکسین سے لیس کیا جاسکتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر تھری ڈی پرنٹر سے کاڑھا گیا ہے جس میں ڈاک ٹکٹ کی جسامت کے پولیمر ٹکڑے پر باریک سوئیاں لگائی گئی ہیں۔ اس سے سوئی کی تکلیف کم ہوتی ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد کو بہت تیزی سے ویکسین یا کسی اور دوا کا ٹیکہ لگایا جاسکتا ہے۔

’اس ٹیکنالوجی کی بدولت پوری دنیا کے لوگوں میں ویکسین کی کم، درمیانی یا زیادہ خوراک لگائی جاسکتی ہے۔ اس کےلیے خاص مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی اور سوئی کا خوف بھی جاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ خود مریض بھی اسے استعمال کرسکتا ہے،‘ پروفیسر جوزف ڈی سائمن نے کہا جو اس تحقیق کے سربراہ ہیں۔ے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *