Fri. Jan 21st, 2022

ماہرین طب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر ایک گھنٹے میں 46 اموات دل کے امراض کی وجہ سے ہورہی ہیں، 3 سال قبل یہ تعداد صرف 12 تھی، صرف 3 سال میں یہ تعداد خطرناک حد تک 4 گنا بڑھ گئی ہے، سی پی آر کے ذریعے بہت سی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں یہ عمل متاثرہ شخص میں دل کی دھڑکن ، خون کی گردش اور سانس کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ماہرین نے ان ورکشاپس میں عام لوگوں کو بنیادی لائف سپورٹ کے عملی اقدامات کی تربیت دی، دل کے امراض خاص طور پر بلڈ پریشر کے حوالے سے ریسرچ کے لیے فنڈز مہیا کیے جائیں تاکہ پاکستان کی مقامی آبادی میں دل کے امراض کے اسباب اور روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جاسکے، یہ بات ماہرین امراض قلب نے کراچی میں پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز اور پاکستان ہائپرٹینشن لیگ کے درمیان ہفتے کے روز ہونے والی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نامور ماہرین امراض قلب کا کہنا تھا کہ مقامی فارماسوٹیکل انڈسٹری کو بھی ریسرچ کے لیے میڈیکل اسٹوڈنٹس اور ڈاکٹروں کو فنڈز فراہم کرنے چاہئیں تاکہ بیماریوں کے مقامی اسباب اور علاج کے حوالے سے تحقیق کی جاسکے۔

اس موقع پر پہلے ہائپرٹینشن ریسرچ ایوارڈ جاری کرنے کے لیے پاکستان ہائپرٹنشن لیگ اور پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنس نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کے تحت صحت کے شعبے میں تحقیق کے لیے ڈاکٹروں اور محقیقن کو 3 لاکھ روپے تک کی گرانٹ مہیا کی جائے گی طبی تحقیق کے لیے فنڈز فارمیوو ریسرچ فارم فراہم کرے گان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام میں پائے جانے والے امراض اور ان کے علاج کے لیے مقامی طور پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی آبادی میں بڑھتے ہوئے امراض کی وجوہات کا سدباب کیا جاسکے اور ان کے لیے علاج کے ساتھ بہتر طرز زندگی گزارنے کی گائیڈ لائنز جاری کی جاسکیں۔

پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے چیف ایڈیٹر شوکت علی جاوید نے کہاکہ اس ایوارڈ اور گرانٹ کا مقصد پاکستان میں طبی تحقیق کا فروغ اور نوجوان ڈاکٹروں کو تحقیق کی جانب راغب کرنا ہماہر امراض دل پروفیسر محمد اسحاق کا کہنا تھا کہ طبی تحقیق کسی بھی پاکستانی حکومت کی ترجیح نہیں رہی، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت نہ صرف اس شعبے کے لیے مزید فنڈز فراہم کرے بلکہ مقامی فارما انڈسٹری کے حوالے سے بھی قانون سازی کرکے طبی تحقیق کے لیے نجی شعبے سے فنڈز فراہم کرائے پاکستان میں آج تک کی جانے والی زیادہ تر طبی تحقیق ڈاکٹروں اور پروفیسروں کی ذاتی کاوش کا نتیجہ ہے پاکستان میں زیادہ تر ڈاکٹر بیرون ملک کی جانے والی تحقیق کے نتائج پر بھروسہ کرتے ہوئے علاج تجویز کرتے ہیں جبکہ پاکستانی عوام کی نہ صرف جسمانی ساخت، وزن اور قد یورپی عوام سے مختلف ہے بلکہ یہاں کی آب و ہوا اور رہن سہن بھی ان ممالک سے بہت مختلف ہے۔

پاکستان ہائپرٹینشن لیگ کے صدر پروفیسر صولت صدیق نے کہا کہ کہ پاکستان میں ہر دوسرا شخص ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہے خاص طور پر پاکستان کے شہری علاقوں کی خواتین موٹاپے اور بلند فشار خون کی وجہ سے امراض قلب کا شکار ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *