Wed. May 18th, 2022

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر شاہد خاقان اور مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے دلائل دیے کہ ثاقب نثار کی کردار کشی کی گئی، درخواست گزار سے پوچھا مریم، شاہد خاقان نے اس عدالت یا ججوں کے خلاف کچھ کہا، درخواست گزار کے وکیل نے نفی میں جواب دیا۔

حکم نامے کے مطابق توہین عدالت کے عنوان سے کیس میں اصولوں، قانون پر روشنی ڈالی، جج قانون سے بالاتر نہیں ہیں اور وہ بھی جوابدہ ہیں، بے بنیاد تنقید جوڈیشل افسران کے احتساب کا ایک لازمی حصہ ہے۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ توہین کے دائرہ کار کو لارڈ اٹکن نے مناسب طریقے سے بیان کیا، جج جو عدالتی عہدہ رکھنا چھوڑ دیتا ہے ادارے سے تعلق منقطع ہوجاتا ہے، جج کا ریٹائرمنٹ کے بعد عدالتوں سے کوئی تعلق نہیں رہتا، ریٹائرمنٹ کے بعد ایک جج نجی شہری کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔

حکم نامے کے مطابق ایساشخص آئین کے آرٹیکل 204 کے تناظر میں کارکن نہیں، ایساشخص 2003 کےآرڈیننس کے تحت عدالت کا رکن نہیں، ججوں کو انصاف کےچشمےکےذریعے لوگوں کی خدمت کا فرض سونپاجاتاہے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق ججزعوامی جانچ پڑتال اورتنقیدسےمحفوظ نہیں ہیں، ایک آزادجج عوامی تنقیدکی وجہ سےکسی دوسرےطریقےسےمتاثرنہیں ہوگا،جج کااختیارآئین کےالفاظ پرمنحصرنہیں ہےبلکہ عوامی احترام ،اعتمادپرمنحصرہے۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ توہین کی طاقت کااستعمال اسی صورت جائز ہو گا جب یہ عوامی مفادمیں ہو، اسلام آباد:زیر التواکیسزکی کارروائی میں مداخلت نہ ہو۔

حکم نامے کے مطابق پٹیشنرکو تکلیف ہوئی ہے ایک سابق چیف جسٹس کو تنقیدکانشانہ بنایاگیا، اسلام آباد:یہ یقینی طورپرتوہین کے جرم کو راغب نہیں کرتاہے، پٹیشن قابل سماعت نہیں ہےاوراس وجہ سےاسےخارج کردیاگیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *