Wed. May 18th, 2022

افریقی ممالک میں کرونا وائرس کی خطرناک ترین قسم سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے، کئی ممالک نے فضائی پابندیوں کو بھی اعلان کردیا ہے۔

سائنسدانوں نے کرونا وائرس کی نئی قسم کو بی 1.1.529 کا نام دیا ہے، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کرونا کی اس نئی قسم میں بہت زیادہ غیرمعمولی میوٹیشنز ہوئی ہیں جو فکرمند کردینے والی ہیں کیونکہ اس سے ممکنہ طور پر وہ جسمانی مدافعتی ردعمل کے خلاف مزاحمت اور زیادہ متعدی ہوسکتی ہے۔

کورونا وائرس کی نئی قسم بی 1.1.529 کے 100 کیسز اب تک جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، اسرائیل اور بوٹسوانا میں دریافت ہوچکے ہیں۔

یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سوزن ہوپکنز نے بتایا کہ بی 1.1.529 کی آر ویلیو یا ری پروڈکشن نمبر اس وقت 2 ہے جس کا عندیہ جنوبی افریقی صوبے گوتھنگ میں ملا جہاں وہ پھیل رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2 آر ویلیو وائرس کے پھیلاؤ کا وہ نمبر ہے جو وبا کے آغاز سے اب تک ریکارڈ نہیں ہوا، اگر آر ویلیو 1 سے اوپر ہو تو کوئی وبا بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے۔

ڈائیگناسٹک لیبارٹریز کے ابتدائی تجزیوں سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم بہت تیزی سے جنوبی افریقی صوبے میں پھیل رہی ہے اور ممکنہ طور پر پہلے ہی جنوبی افریقہ کے دیگر 8 صوبوں تک پھیل چکی ہے۔

نیشنل انسٹیٹوٹ آف کمیونیکیبل ڈیزیز (این آئی سی ڈی)کی جانب سے جاری جنوبی افریقہ میں روزانہ کے کیسز کے اعدادوشمار میں 2465 نئے کیسز کو رپورٹ کیا گیا جو ایک دن قبل کے مقابلے میں لگ بھگ دگنا زیادہ ہیں۔

ادھرجنوبی افریقا نے اس نئی قسم کے 100 کیسز کی تصدیق کی ہے اور خیال کیا جارہا تھا کہ گوتھنگ میں 90 فیصد نئے کیسز کے پیچھے بی 1.1.529 ہے جبکہ یہ قسم بوٹسوانا، ہانگ کانگ اور اسرائیل تک بھی پہنچ چکی ہے۔

ہانگ کانگ میں 2 افراد میں اس کی تصدیق ہوئی جن میں سے ایک جنوبی افریقہ سے آیا تھا اور اس نے اپنے ہوٹل کمرے کے برابر میں موجود فرد میں اسے منتقل کیا۔

سنیئر سائنسدانوں نے 25 نومبر کی شام کو بی 1.1.529 کو وبا کے آغاز سے اب تک کورونا کی بدترین قسم قرار دیا، جس کے اسپائیک پروٹین میں 32 میوٹیشنز ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ اسپائیک پروٹین وائرس کا وہ حصہ ہے جس کے خلاف بیشتر ویکسینز کو مدافعتی نظام کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،میوٹیشنز کی یہ تعداد ڈیلٹا قسم سے دگنا زیادہ ہیں اور اسپائیک پروٹین میں آنے والی تبدیلیوں سے وائرس کی خلیات کو متاثر کرنے اور پھیلنے کی صلاحیت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ مدافعتی خلیات کے لیے جراثیم پر حملہ آور ہونا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ ڈیلٹا قسم کو سب سے پہلے بھارت میں 2020 کے آخر میں دریافت کیا گیا تھا جو اب دنیا بھر میں بالادست قسم ہے اور اس کے باعث کیسز اور اموات کی شرح میں اضافہ ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *