Wed. May 18th, 2022

امریکی کمپنی مرک اینڈ کو نے اپنی تجرباتی کووڈ 19 دوا کا تازہ ڈیٹا جاری کردیا ہے جو مستقبل میں اس کی فروخت پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔

دواساز ادارے کی جانب سے جاری نئے ڈیٹا میں بتایا گیا کہ مولنیوپیراویر سابقہ رپورٹس کے مقابلے میں وبائی بیماری سے اسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ کم کرنے میں نمایاں حد تک کم مؤثر ہے۔

دوا ساز کمپنی نے بتایا کہ اس دوا کے استعمال سے کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کے اسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے،اس سے قبل اکتوبر 2021 میں کمپنی کی جانب سے جاری ڈیٹا میں اس تجرباتی دوا کی بیماری کے خلاف افادیت 50 فیصد بتائی گئی تھی۔

یہ تازہ ترین ڈیٹا 1433 مریضوں کی جانچ پڑتال سے نکالا گیا، اس سے قبل اکتوبر میں جاری کیا گیا ڈیٹا 775 مریضوں میں اس دوا کے ٹرائل کے نتائج پر مبنی تھا۔

مرک کی جانب سے دوا کی افادیت میں کمی اس کی فروخت پر اثرانداز ہوسکتی ہے، کیونکہ فائزر کی جانب سے بھی تجرباتی کووڈ دوا کی افادیت کے عبوری ڈیٹا میں اسے اسپتال میں داخلے اور موت کی روک تھام کے لیے 89 فیصد تک مؤثر قرار دیا گیا ہے۔

مولنیوپیراویرنامی دوا کو مرک نے ریج بیک بائیو تھراپیوٹیکس کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے، کمپنی کی جانب سے  یہ نیا ڈیٹا اس وقت جاری کیا گیا ہے جب یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے 26 نومبر کو اس دوا کے حوالے سے دستاویزات جاری کی جارہی ہیں۔

فائزر اور مرک کی تیار کردہ ادویات کو وبا کے خلاف جنگ کے لیے اہم ہتھیار قرار دیا جارہا ہے کیونکہ ان کا استعمال گھر میں کرکے اسپتال میں داخلے اور اموات کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

مرک اور فائزر کی ادویات کے علاج کا میکنزم مختلف ہے، مرک وائرس کے جینیاتی کوڈ تبدیل کرتی ہے تاکہ نقول نہ بن سکے جبکہ فائزر کی دوا اس انزائمے کو بلاک کرتی ہے جس کو وائرس نقول بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے نومبر 2021 کے آغاز میں مرک کی دوا کے استعمال کی مشروط منظوری دی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *