Mon. May 16th, 2022

موسیقی اور گائیکی کی دنیا کے کئی مشہور اور مقبول ترین نام ایسے ہیں‌ جنھوں نے اپنے طویل کیریئر کے دوران لاتعداد گیت اور غزلیں گائیں اور دلوں پر راج کیا، لیکن کچھ ایسے گلوکار بھی ہیں‌ جن کی آواز میں‌ فقط ایک ہی فلمی گیت، کوئی غزل یا ملّی نغمہ اتنا مشہور ہوا کہ اسی ایک پرفارمنس نے انھیں گویا امر کردیا اور دہائیوں بعد بھی ان کی شناخت اور پہچان برقرار ہے۔

یہاں ہم چند ایسے گلوکاروں کا تذکرہ کررہے ہیں‌ جن کی ایک ہی پرفارمنس نے انھیں راتوں رات شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور آج بھی ان کا نام زندہ رکھے ہوئے ہے۔

‘تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں، جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں…’ یہ گیت شرافت علی کی آواز میں آج بھی سماعتوں میں‌ رس گھول رہا ہے۔ 1957ء کی بات ہے جب ہدایت کار ڈبلیو زیڈ احمد کی فلم ‘وعدہ’ ریلیز ہوئی اور شائقین نے اس گیت پر اپنے وقت کے خوب رُو اداکار سنتوش کمار کی پرفارمنس دیکھی۔ یہ گیت شرافت علی آواز میں فلم بینوں کے دل میں اتر گیا۔ آج بھی یہ گیت پسند کیا جاتا ہے اور شرافت علی کی یاد دلاتا ہے۔

ایس بی جون کی آواز میں ‘تُو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں‌ ہے…’ جیسا خوب صورت گیت 1959ء میں ریلیز ہونے والی فلم ‘سویرا’ میں شامل تھا۔ سنی بنجمن جون کو برصغیر پاک و ہند میں ایس بی جون کے نام سے پہچان ملی اور ان کا گایا ہوا یہ نغمہ مقبول ترین ثابت ہوا۔

ایس بی جون ایک شوقیہ گلوکار تھے اور ان کی پُرسوز آواز میں‌ یہی گیت اُن کی وجہِ شہرت بنا اور آج بھی ان کی شناخت ہے۔

پاکستانی گلوکار محمد افراہیم کو ان کے گائے ہوئے ملّی نغمات نے بے مثال شہرت اور مقبولیت دی۔ ‘زمیں کی گود رنگ سے، امنگ سے بھری رہے…خدا کرے، خدا کرے…’ ان کی آواز میں‌ ملک بھر میں‌ مقبول ہوا۔ یہ وہ نغمہ تھا جس نے انھیں پہچان دی اور ایسی شہرت عطا کی جو بہت کم گلوکاروں کے حصّے میں آئی۔ اس کی موسیقی سہیل رعنا نے ترتیب دی تھی اور شاعر اسد محمد خان تھے۔

وسیم بیگ کی آواز میں نغمہ ‘یہ دیس ہمارا ہے’ آج بھی ہماری سماعتوں‌ میں رس گھول رہا ہے اور جذبۂ حبُّ الوطنی سے سرشار قوم کے بچّے بچّے کی زبان پر ہے۔ یہ رعنا اکبر آبادی کا تحریر کردہ ملّی نغمہ تھا۔ اس کا شمار پاکستان کے مقبول ترین ملّی نغمات میں ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *