Mon. May 16th, 2022

یوکرین کے وزیر دفاع نے آئندہ سال کے آغاز میں ملک پر روسی حملے کا امکان ظاہر کر دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرینی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ جنوری میں روسی حملےکا امکان ہے سرحد ‏پر روسی فوجیوں کی تعداد 94 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملےکا امکان موجود ہے لیکن یوکرین روس کواکسانےکے ‏لیے کچھ نہیں کرےگا اگر روس نےحملہ کیا تو جواب دینےکےلیےتیار ہیں۔

وزیردفاع نے واضح کیا کہ یوکرین سیاسی اور سفارتی حل میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے خوفناک جنگ سے خبردار کرتے ہوئے مغربی ممالک کو وارننگ دی کہ وہ روس ‏کی مقرر کردہ حدود کو عبور کرنے سے گریز کریں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جیز نے یوکرین میں روسی فوج کی موجودگی اور مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔ اُن کا ‏کہنا تھا کہ ’ہم نے حالیہ ہفتوں کے دوران یوکرین میں روسی فوج بڑی تعداد میں دیکھی، یہ تشویشناک بات ہے ‏کیونکہ اگر روس نے روش ترک نہ کی تو صورت حال اور تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘۔

روسی صدر نے اس الزام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک طرف تو یوکرین کے ساتھ معاملات اختتام کی جانب ‏بڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب مغربی ممالک بیلا روس اور پولینڈ مہاجرین کے لیے سرحدیں بند کر کے دباؤ ‏بڑھانے کی کوشش کررہا ہے‘۔

دوسری جانب روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور امریکی صدر کی رواں سال دوسری ملاقات ہونے کی توقع بھی ہے۔ ‏سیاسی مبصرین اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک اجلاس کے دوران روسی اور امریکی صدور کے درمیان ملاقات ہوئی تھی، جس میں دونوں ممالک ‏کے سربراہان نے معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے اور دوستانہ تعلقات کو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ ‏اس اہم مٹینگ میں روس سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور امریکا کے سیکیورٹی ایڈوائز بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *