Tue. May 17th, 2022

شاہ جہاں بیگم ریاست بھوپال کی تیسری حکم ران تھیں۔ وہ علم و فنون کی دلدادہ اور قدر دان ہی نہیں‌ ایک بہترین منتظم اور ریاعا کی خیر خواہ بھی تھیں۔

بھوپال اٹھارویں صدی میں ہندوستان کی ایک آزاد ریاست تھی جس نے برطانوی ہند میں نوابی ریاست کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھا۔ اس سرزمین پر جنم لینے والی کئی نے علم و ادب کے ساتھ فنون کے مختلف شعبہ جات میں نام و مقام پیدا کیا اور خود شاہ جہاں بیگم نے علم و فنون کے فروغ اور بھوپال میں اصلاحات اور تعمیر و ترقّی کے لیے بہت کام کیا۔

وہ 1838ء میں قلعہ اسلام نگر، بھوپال میں پیدا ہوئیں۔ ان کی تعلیم و تربیت کا زبردست اہتمام کیا گیا۔ امورِ مملکت بھی سکھائے گئے اور گھڑ سواری اور نشانہ بازی کی مشق بھی کرائی گئی۔

1844ء میں ان کے والد نواب جہانگیر محمد خان کا انتقال ہوا اور ریاست کی حکم راں کے طور پر ان کے نام کا اعلان کردیا گیا۔ وہ کم عمر تھیں اور انتظامِ سلطنت ان کی والدہ نواب سکندر بیگم کے ہاتھ میں رہا۔ بعد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے طفیل یہ نوابی ریاست بن گئی، اور والدہ کے انتقال کے بعد شاہ جہاں بیگم کی تخت نشینی ہوئی۔

شاہ جہاں بیگم کو امورِ سلطنت کی تعلیم اور تربیت دی گئی تھی، اور وہ اپنی ولی عہدی کے زمانے ہی سے ریاستی انتظامات کو دیکھتی آرہی تھیں۔ انھوں نے تخت نشینی کے بعد کئی جدید اصلاحات کیں، جن کا ذکر انھوں نے ’تاجُ الااقبال‘ کے نام سے تاریخِ بھوپال میں کیا ہے۔ ان میں وضعِ قوانین کے لیے محکمہ قائم کرنا، عدالتی اختیارات کی تقسیم، امن و امانِ عامّہ سے متعلق وسیع انتظامات اور حفظانِ صحّت سے متعلق امور پر توجہ دیتے ہوئے ہر تحصیل میں طبیب مقرر کیا۔ شہر بھوپال میں ایک بڑا شفا خانہ بنوایا۔

بیگم بھوپال کے امورِ سلطنت اور کاموں کا تذکرہ تو کئی صفحات پر پھیل سکتا ہے، لیکن ہم یہاں اس دور میں چیچک کی بیماری کے ٹیکے کی بات کریں گے جس میں آج کرونا کی ویکسینیشن کی طرح اس وقت عوام ٹیکے لگوانے سے گھبرا رہے تھے اور اس سے متعلق ناقص معلومات اور بہت سی غلط باتیں‌ ان میں پھیل رہی تھیں۔

شاہ جہاں بیگم نے باقاعدہ چیچک کے ٹیکے لگانے کے انتظامات کروائے۔ اس موقع پر انھوں نے عوام کو ترغیب دینے اور ان میں‌ ٹیکے سے متعلق پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے کے لیے اپنی نواسی بلقیس جہاں بیگم کو چیچک کا ٹیکہ لگوایا۔ اس کے علاوہ ریاست میں جن بچّوں کو ٹیکہ لگایا جاتا انھیں انعام بھی دیا جاتا تھا۔

وہ ایک دور اندیش، بیدار مغز اور تعلیم و صحت کو اہمیت دینے والی حکم ران تھیں جنھوں‌ نے لاوارث اور یتیم بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے بھی عمارتیں تعمیر کراوئیں اور غریب اور معذور لوگوں کی امداد کے لیے وظائف مقرر کیے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *